Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
551 - 881
{فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ: تو ان ستاروں  کی قسم جو اُلٹے چلیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی6آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! تمہارا یہ گمان کہ قرآن جادو یا شعر یا اگلے لوگوں  کی کہانیاں  ہے،ہر گزدرست نہیں ، مجھے ان ستاروں  کی قسم! جو الٹے چلیں  اور سیدھے چلیں  اوراپنے چھپنے کی جگہوں  پرچھپ جائیں ،اور رات کی قسم! جب وہ جانے لگے اور اس کی تاریکی ہلکی پڑجائے ،اور صبح کی قسم! جب وہ ظاہر ہو جائے اوراس کی روشنی خوب پھیل جائے، بیشک یہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عزت والے رسول حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کا پہنچایا ہواکلام ہے جو کہ قوت والا ہے ، عرش کے مالک کے حضور عزت و مرتبے والا ہے اور آسمانوں  میں  فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں  اور وہ اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک اللّٰہ تعالیٰ کی وحی پہنچانے پرامانت دار ہے۔( روح البیان، التکویر، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱۰/۳۴۹، خازن، التکویر، تحت الآیۃ: ۱۵-۲۱، ۴/۳۵۶-۳۵۷، ملتقطاً)
{اَلْجَوَارِ الْكُنَّسِ: جوسیدھے چلیں  ، چھپ جائیں ۔} حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  کہ ان (آیات میں  جن کا ذکر ہے ان) سے مراد وہ پانچ سیارے ہیں  جنہیں ’’ خمسۂ مُتَحَیِّرہ‘‘ کہا جاتا ہے،وہ یہ ہیں  (1)زُحَل۔ (2)مُشْتَرِی۔(3)مِرِّیخ۔(4) زُہْرَہ۔(5) عُطَارِدْ۔اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان سے تمام ستارے مراد ہیں۔( قرطبی،التکویر،تحت الآیۃ:۱۶،۱۰/۱۶۶،الجزء التاسع عشر، مدارک، التکویر، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۳۲۵،ملتقطاً)
{اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ: بیشک یہ ضرور عزت والے رسول کا کلام ہے۔} جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  ’’رسول کریم‘‘ سے مراد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں  البتہ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہاں  رسولِ کریم سے مرادحضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہیں  جیسا کہ علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں  مذکور ’’رسولِ کریم‘‘ کے بارے میں  دو قول ہیں ،ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں  اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہیں ۔( النکت والعیون، التکویر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۶/۲۱۸)
	اورعلامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  ’’رسولِ کریم‘‘ سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام مراد ہیں  اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہیں ۔( البحر المحیط، التکویر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۸/۴۲۵)