اعمال معلوم ہوں گے تو اس وقت ان کا جو حال ہو گا اس کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ‘‘(ال عمران:۳۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: (یاد کرو)جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا توتمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئیدور دراز کی مسافت (حائل) ہوجائے اور اللّٰہ تمہیں اپنےعذاب سے ڈراتا ہے اور اللّٰہ بندوں پر بڑامہربان ہے۔
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان آیات میں زیادہ سے زیادہ غور کرے تاکہ ا س کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اوراسے گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی سوچ نصیب ہو۔
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ(۱۵) الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ(۱۶) وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ(۱۷) وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ(۱۸) اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ(۱۹) ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ(۲۰) مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں سیدھے چلیں تھم رہیں اور رات کی جب پیٹھ دے اور صبح کی جب دم لے بیشک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے جو قوت والا ہے مالک ِعرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے امانت دار ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان ستاروں کی قسم جو اُلٹے چلیں ۔جوسیدھے چلیں ، چھپ جائیں ۔اور رات کی جب پیٹھ پھیر کر جائے۔اور صبح کی جب سانس لے ۔بیشک یہ ضرور عزت والے رسول کا کلام ہے۔جو قوت والا ہے ، عرش کے مالک کے حضور عزت والا ہے۔وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ،امانت دار ہے۔