آٹھ بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا تھا (اب میرے لئے کیا حکم ہے) نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم ہر بیٹی کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو۔اس شخص نے دوبارہ عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، (میرے پاس غلام نہیں ہیں البتہ) میں اونٹوں کا مالک ہوں ۔ارشاد فرمایا:’’اگر تم چاہو تو ہر بیٹی کے بدلے ایک اونٹ ہدیہ کر دو۔( معجم الکبیر، باب القاف، من اسمہ: قیس، قیس بن عاصم المنقری، ۱۸/۳۳۷، الحدیث: ۸۶۳)
بیٹیو ں سے متعلق دین ِاسلام کا عظیم کارنامہ:
یہ دین ِاسلام کا ہی عظیم کارنامہ ہے جس نے بیٹیوں کو اپنے لئے بدنامی کا باعث سمجھ کرزمین میں زندہ دفن کر دینے والے لوگوں کو اس انسانیّت کُش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کر دیا ، اس سے معلوم ہو اکہ اسلا م عورتوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر طرح کے ظلم سے بچاتا ہے، چاہے وہ ظلم ان کی ناحق زندگی ختم کر کے کیا جائے یا ان کی عزت و ناموس اور ان کے جسم کے ساتھ کھیل کر یا ان کے جسم کی نمائش کروا کر کیا جائے۔اس سے ان لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے جوعورت کے بارے دین ِاسلام کے اَحکامات کو اس کے اوپر ظلم قرار دیتے ہیں ، چادر و چار دیواری کو عورت کے حق میں ناانصافی کہتے ہیں اورروشن خیالی اور نام نہادتہذیب و تَمَدُّن کے نام پر عورت کوشرم و حیا سے عاری کرنے میں اسلام کی شان سمجھتے ہیں ۔
{وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ: اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی بھڑک میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ کفار کو ہمیشہ کے لئے جلاتی رہے ورنہ جہنم تو جب سے پیدا کی گئی ہے تب سے ہی بھڑک رہی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جہنم کی آگ ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی،پھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی،پھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئی،اب وہ ا نتہائی سیاہ ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ جہنم، ۸-باب منہ، ۴/۲۶۶، الحدیث: ۲۶۰۰)
{عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ: ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔} جب لوگوں کو اپنے کئے ہوئے اچھے برے