Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
548 - 881
اور لوگ اپنے حال میں  ایسے مبتلا ہوں  گے کہ ان اونٹنیوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
(5)… جب قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں  گے تاکہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔
(6)… جب سمندر سلگائے جائیں  گے،پھر وہ خاک ہو جائیں گے ۔
(7)… جب جانوں  کے جوڑ بنیں  گے۔ مفسرین نے اس کے مختلف معنی بیان کئے ہیں (1) نیک لوگ نیکوں  کے ساتھ اور برے لوگ بروں  کے ساتھ کر دئیے جائیں  گے۔ ــــ(2)جانیں  اپنے جسموں کے ساتھ یا اپنے عملوں  کے ساتھ ملادی جائیں  گی۔(3) ایمانداروں  کی جانیں  حوروں کے ساتھ اور کافروں کی جانیں  شَیاطِین کے ساتھ ملادی جائیں  گی۔(4) روحیں  اپنے جسموں  کی طرف لوٹا دی جائیں  گی۔
 (8)… جب اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جو زندہ دفن کی گئی ہو کہ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟۔اہلِ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂ جاہلیّت میں  وہ لڑکیوں  کو زمین میں زندہ دفن کردیتے تھے اور یہ سوال قاتل کی سرزنش کے لئے ہوگا تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں  بے گناہ ماری گئی تھی۔
(9)… جب نامۂ اعمال حساب کے لئے کھولے جائیں  گے۔
(10)…جب آسمان اپنی جگہ سے ایسے کھینچ لیا جائے گا جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے۔
 (11)… جب جہنم کو اللّٰہ تعالیٰ کے دشمنوں  کے لئے بھڑکایا جائے گا۔
(12)… اور جب جنت کو اللّٰہ تعالیٰ کے پیاروں  کے قریب لایا جائے گا۔اس کے بعد فرمایا کہ جب یہ 12چیزیں  واقع ہوں  گی تو اس وقت ہر جان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون سی نیکی یا بدی اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوئی ہے۔( خازن ، التکویر ، تحت الآیۃ : ۱-۱۴ ، ۴/۳۵۵- ۳۵۶، مدارک، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ص۱۳۲۴-۱۳۲۵، جلالین مع صاوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ۶/۲۳۱۹-۲۳۲۱، ملتقطاً)
{وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْ: اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائیگا۔} حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس آیت کے بارے میں  پوچھا گیا تو انہوں  نے نام لے کر فرمایا’’ایک صاحب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، میں  نے زمانۂ جاہلیّت میں  اپنی