كُشِطَتْﭪ(۱۱) وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲) وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب پہاڑ چلائے جائیں اور جب تھلکی اونٹنیاں چھوٹی پھریں اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں اور جب سمندر سلگائے جائیں اور جب جانوں کے جوڑ بنیں اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کس خطا پر ماری گئی اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے اور جب جہنم کوبھڑکایا جائے اور جب جنت پاس لائی جائے ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں گی۔اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں گے۔اور جب سمندر سلگائے جائیں گے۔اور جب جانوں کوجوڑا جائے گا ۔اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟اور جب نامہ ٔاعمال کھولے جائیں گے۔اور جب آسمان کھینچ لیا جائے گا۔اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی ۔اور جب جنت قریب لائی جائے گی ۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔
{اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔} اس سورت کی ابتدائی 14آیات میں 12چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے۔
(1)…جب سورج کے نور کوزائل کر دیا جائے گا ۔
(2)… جب ستارے جھڑکر بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں گے اور کوئی ستارہ اپنی جگہ پر باقی نہ رہے گا۔
(3)… جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
(4)… جب وہ اونٹنیاں جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں گے اور ان کا دودھ نکالنے کا وقت قریب آگیا ہو گا، آزاد پھریں گی کہ ان کو نہ کوئی چرانے والا ہو گا اورنہ ان کا کوئی نگراں ہو گا ، اس دن کی دہشت اور ہَولْناکی کا یہ عالَم ہو گا