Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
537 - 881
شخص حاضر ہوا اور اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ کو کیا معلوم کہ شاید وہ آپ کا ارشاد سن کر پاکیزہ ہوجائے یاآپ کے کلام سے نصیحت حاصل کرے تو وہ نصیحت اسے فائدہ دے۔جبکہ دوسراوہ شخص جو اپنے مال کے تکبر میں  مبتلا ہونے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ سے اورایمان لانے سے بے پرواہوا تو آپ اس کے پیچھے پڑتے ہیں  اور اس کے ایمان لانے کی امیدمیں  اس پر کوشش کرتے ہیں  (تاکہ دین ِاسلام کی قوت میں  اضافہ ہو اور ان کے پیچھے چلنے والے اور لوگ بھی ایمان لے آئیں ) حالانکہ آپ پر اس بات کا کوئی اِلزام نہیں  کہ وہ کافر ایمان لا کر اور ہدایت پا کر پاکیزہ نہ ہو کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت دینا اور اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادینا ہے اور وہ ابنِ اُمِّ مکتوم ،جو بھلائی کی طلب میں  تمہارے حضور ناز سے دوڑتا ہوا آیا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتاہے تو آپ اسے چھوڑ کر دوسری طرف مشغول ہوتے ہیں ، ایسا کرنا آپ کی شان کے لائق ہرگز نہیں۔( خازن،عبس،تحت الآیۃ:۱-۱۰،۴/۳۵۳، مدارک، عبس، تحت الآیۃ: ۱-۱۰، ص۱۳۲۱، جلالین، عبس، تحت الآیۃ: ۱-۱۰، ص۴۹۰، ملتقطاً)
	 یہاں  یہ بات ذہن نشین رہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے سامنے دو طرح کے لوگ تھے ، ایک مالدارکفار جن کے اسلام لانے سے خود اُن کفار کو اور اسلام و مسلمانوں  کو فائدہ تھا جبکہ دوسری طرف نابینا مسلمان صحابی تھا۔ دونوں  کے اعتبار سے یہاں  تین پہلو تھے ،
	پہلا یہ کہ مالدارکفار ، خصوصاً سردار ہر وقت تبلیغ کے لئے مُیَسَّر نہیں  ہوتے تھے اور اُس خاص وقت کے علاوہ دوسرے وقت ان کا ایمان کی بات سننے کیلئے آنا یقینی نہیں  تھاجبکہ صحابی ہر وقت حاضر رہتے اور اُس خاص وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں  ان کا آنا یقینی تھا۔
	دوسر ا پہلو یہ تھا کہ کفار سے بات اِیمانیات کے متعلق ہورہی تھی جبکہ صحابی سے بات ایمان کی تکمیل یا عمل وغیرہ کے متعلق ہونی تھی اور ایمان کا معاملہ اس کی تکمیل اور اعمال سے زیادہ اہم ہے ۔
	 تیسرا پہلو یہ تھا کہ کفار کا ایمان لانا یقینی نہیں  تھا جبکہ صحابی کا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے فرمان پر عمل نسبتاً یقینی تھا۔ ان تینوں  باتوں  کو سامنے رکھتے ہوئے اب آیت اور اس واقعے کا مفہوم سمجھیں  کہ پہلے دو پہلوؤں  کا تقاضا یہ تھا کہ کفار سے بات کرنے کو ترجیح دی جائے جبکہ تیسرے پہلو کا تقاضا تھا کہ صحابی سے بات کرنے کو ترجیح دی جائے،