Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
538 - 881
نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے پہلے دو پہلوؤں  کو کثرتِ فوائد کے پیشِ نظر اپنے اِجتہاد سے ترجیح دی جبکہ حکمِ الٰہی میں  بتادیا گیا کہ تیسرا پہلو جو یقینی تھا اسے پہلے والے دو غیر یقینی پہلوؤں  پر ترجیح دی جانی چاہیے تھی چنانچہ اسی کے حوالے سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تربیت فرمادی گئی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو آپ کی تمام جہانوں  کے لئے رحمت ہونے والی شان کے مطابق انداز اپنانے کا بھی فرمادیا گیا کہ اس طرح کے معاملات میں  چہرے پر تیوری نہ چڑھائی جائے۔
{اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى: اس بات پر کہ ان کے پاس نابینا حاضر ہوا۔} حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو نابینا فرما کر ان کی تحقیر نہیں  کی گئی بلکہ ا س میں  ان کی معذوری کی طرف اشارہ ہے کہ ان سے قطعِ کلامی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے واقع ہوئی اور ا س وجہ سے وہ مزید نرمی کئے جانے کے مستحق تھے ۔
حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان:
	 ان آیات کے نازل ہونے کے بعد تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہت عزت فرماتے تھے اور خود ان سے ان کی حاجتیں  دریافت فرماتے۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے غزوات کے دوران دو مرتبہ حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مدینہ منورہ میں  اپنا نائب بنایا اور حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ ِقادسیہ میں  شہید ہوئے۔( تفسیرکبیر، عبس، تحت الآیۃ: ۱، ۱۱/۵۲، روح المعانی، عبس، تحت الآیۃ: ۱، ۱۵/۳۳۸، ملتقطاً)
كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ(۱۱) فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ(۱۲) فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ(۱۳) مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ(۱۴) بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ(۱۵) كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: یوں  نہیں  یہ تو سمجھانا ہے تو جو چاہے اُسے یا د کرے ان صحیفوں  میں  کہ عزت والے ہیں  بلندی والے پاکی والے ایسوں  کے ہاتھ لکھے ہوئے جو کرم والے نکوئی والے ۔