ترجمۂکنزالایمان: تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے وہ جو بے پرواہ بنتا ہے تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو اور تمہارا کچھ زِیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہواور وہ جو تمہارے حضور ملکتا آیا اور وہ ڈر رہا ہے تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔اس بات پر کہ ان کے پاس نابینا حاضر ہوا۔اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ ہوجائے۔یا نصیحت حاصل کرے تو نصیحت اسے فائدہ دے۔بہرحال وہ شخص جو بے پروا بنا۔ توتم اس کے پیچھے پڑتے ہو۔ اور تم پر اس بات کا کوئی الزام نہیں کہ وہ (کافر) پاکیزہ نہ ہو۔اور رہا وہ جو تمہارے حضور دوڑتا ہوا آیا۔ اور وہ ڈررہا ہے ۔تو تم اسے چھوڑ کر (دوسری طرف) مشغول ہوتے ہو۔
{عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى: تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔} اس سورت کی ابتدائی دس آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عظمت اور اپنی بار گاہ میں ان کی محبوبیّت کے ایک پہلو کو بیان فرمایا ہے کہ جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنے اجتہاد سے ایک کام کو زیادہ اہم سمجھتے ہوئے اسے دوسرے کام پر فَوقِیَّت دی اور دوسرے کام کی طرف توجہ نہ فرمائی تواس پر اللّٰہ تعالیٰ نے لطیف انداز میں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تربیت فرمائی۔ ان آیات کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام ، عبا س بن عبدالمطلب ، اُبی بن خلف اور اُمیہ بن خلف کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اسی دوران حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے جو کہ نابینا تھے اوراُنہوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو بار بار ندا کرکے عرض کی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو آپ کو سکھایا ہے وہ مجھے تعلیم فرمائیے۔ حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ نہ سمجھا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ دوسروں سے گفتگو فرمارہے ہیں اور میرے ندا کرنے سے قطعِ کلامی ہوگی۔ یہ بات حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو گراں گزری اور ناگواری کے آثار چہرۂ اَقدس پر نمایاں ہوئے یہاں تک کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اپنی دولت سرائے اقدس کی طرف واپس تشریف لے آئے ۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس آیت اور ا س کے بعد والی 9آیات میں فرمایا گیا کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اس بات پر اپنے ماتھے پر شکن چڑھائی اور منہ پھیرا کہ ان کے پاس ایک نابینا