(3)…اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے پر کفار کی سرزنش کی گئی اور اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت و قدرت کے دلائل بیان کئے گئے۔
(4)… اس سورت کے آخر میں قیامت کے دہشت ناک مَناظِر بیان فرمائے گئے نیز نیک مسلمانوں کا ثواب اور کافروں ،فاجروں کا عذاب بیان کیا گیا۔
سورۂ نازعات کے ساتھ مناسبت:
سورۂ عبس کی اپنے سے ما قبل سورت’’نازعات‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ نازعات میں بتایاگیا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ذمہ داری اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر اس کے عذاب سے ڈرانا ہے اور اس سورت میں بتایاگیا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے ڈر سنانے سے کون لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ(۱) اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ(۲) وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ(۳) اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ(۴) اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ(۵) فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ(۶) وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ(۸) وَ هُوَ یَخْشٰىۙ(۹) فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ(۱۰)