Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
534 - 881
سورۂ عبس
سورۂ عبس کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورئہ عبس مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ عبس، ۴/۳۵۲)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 42آیتیں  ہیں ۔
’’ عبس ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	عبس کا معنی ہے تیوری چڑھانا اور اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ عبس‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ عبس کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی رسالت کے بارے میں  بیان کیا گیا اور اَخلاقیات کی اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے کہ لوگوں  کے درمیان ان کے بنیادی حقوق میں  مساوات رکھی جائے اور اس سورت میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عظمت و شان ظاہر فرمائی اور ان کے ایک عاشق حضرت عبداللّٰہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاواقعہ بیان فرمایا۔
(2)…یہ بتایا گیا کہ قرآنِ مجید کی آیات تمام مخلوق کے لئے نصیحت ہیں  اور جو چاہے ان سے نصیحت حاصل کرے اور جو چاہے ان سے اِعراض کرے۔ نیز ان آیات کی عظمت و شان بیان کی گئی۔