Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
533 - 881
ایک دن چڑھے کے وقت برابر ہی رہے تھے۔( تفسیرکبیر،النّازعات،تحت الآیۃ:۴۲-۴۶،۱۱/۵۰-۵۱، مدارک،النّازعات،تحت الآیۃ:۴۲-۴۶، ص۱۳۲۰، ملتقطاً)
نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو قیامت قائم ہونے کے وقت کا علم دیا گیا ہے:
	 علامہ احمدصاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ’’ یہ اس وقت کی بات ہے جب اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو قیامت واقع ہونے کے وقت کا علم نہیں  دیا تھا لہٰذا یہ اس بات کے مُنافی نہیں  کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ دنیا سے اس وقت تک تشریف نہیں  لے گئے جب تک اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا اور آخرت کے تمام غُیوب کا علم عطا نہیں  فرمایا (اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا کچھ چیزوں  کی غیبی معلومات نہ بتانا اس بات کی دلیل نہیں  کہ آپ کو غیب کا علم نہیں  تھا کیونکہ) آپ کو (علم ہونے کے باوجود) کچھ باتیں  چھپانے کا حکم تھا۔( صاوی، النّازعات، تحت الآیۃ: ۴۳، ۶/۲۳۱۲)