Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
532 - 881
یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں  کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے ۔ تمہیں  اس کے بیان سے کیا تعلق۔ تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے۔تم تو فقط اُسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے ۔ گویا جس دن وہ اسے دیکھیں  گے دنیا میں  نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم سے قیامت کے بارے پوچھتے ہیں  کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے۔ تمہارا اس کے بیان سے کیا تعلق؟ تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے۔ تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے۔ گویا جس دن وہ اسے دیکھیں  گے (تو سمجھیں  گے کہ) وہ صرف ایک شام یا ایک دن چڑھے کے وقت برابر ہی ٹھہرے تھے۔
{یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ: تم سے قیامت کے بارے پوچھتے ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 4آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین قیامت اور اس کی ہَولْناکْیوں  کے بارے میں  آنے والی خبریں  سنتے تھے تو انہوں  نے مذاق کے طور پر اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے کہا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، مکہ کے کافر آپ سے قیامت کے بارے میں  پوچھتے ہیں  کہ وہ کب ظاہر ہو گی اور کس وقت قائم ہو گی؟ آپ کی یہ ذمہ داری نہیں  کہ آپ انہیں  بتائیں  کہ قیامت کب اور کس وقت واقع ہو گی،قیامت ایسی چیز ہے کہ اس کے واقع ہو نے کے علم کی انتہاء آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ تک ہے اور اس کے علاوہ کوئی نہیں  جانتا کہ قیامت کب واقع ہوگی۔ آپ کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ آپ ان لوگوں  کو قیامت کی ہَولْناکْیوں  اور سختیوں  سے ڈرائیں  جو ڈرانے سے فائدہ حاصل کرتے ہیں  اور آپ کا ڈرانا اس بات پر مَوقوف نہیں  کہ آپ کو قیامت واقع ہونے کا علم بھی ہو کیونکہ اس کے علم کے بغیر بھی آپ کی ذمہ داری پوری ہو سکتی ہے۔کافر جس قیامت کا انکار کر رہے ہیں  عنقریب اسے دیکھ لیں  گے اور گویا کہ جس دن کافر قیامت کو دیکھیں  گے تو اس کی ہَولْناکی اور دہشت کی وجہ سے ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی زندگی کی مدت بھول جائیں  گے اور یہ خیال کریں گے کہ وہ دنیا میں  صرف ایک رات یا