Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
513 - 881
’’وّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً  ‘‘(حاقہ:۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں  گے۔
	 دوسری حالت: پہاڑ دُھنکی ہوئی رنگ برنگی اُون کی طرح ہو جائیں  گے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ‘‘(القارعہ:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں  گے۔
	 تیسری حالت:پہاڑ بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہو جائیں گے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا‘‘(واقعہ:۵،۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ خوب چُورا چُورا کر دیئے جائیں  گے ۔ تووہ ہوا میں  بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں  گے۔
	 چوتھی حالت: غبار بنا کر پہاڑوں  کو اڑا دیا جائے گا،ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘‘(مرسلات:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیےجا ئیں  گے۔
	اور ارشاد فرمایا: ’’وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا‘‘(طہ:۱۰۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ سے پہاڑوں  کے بارےمیں  سوال کرتے ہیں  ۔تم فرماؤ! انہیں  میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔
	پانچویں  حالت:غبار بن کر اڑنے کے بعد پہاڑ تیزی سے چل رہے ہوں  گے لیکن دیکھنے میں  ٹھہرے ہوئے لگیں  گے۔ارشاد فرمایاکہ ’’وَ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا‘‘(طور:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ تیزی سے چلیں  گے۔
	اور ارشاد فرمایا: