’’وّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً ‘‘(حاقہ:۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے۔
دوسری حالت: پہاڑ دُھنکی ہوئی رنگ برنگی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ‘‘(القارعہ:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔
تیسری حالت:پہاڑ بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہو جائیں گے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا‘‘(واقعہ:۵،۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ خوب چُورا چُورا کر دیئے جائیں گے ۔ تووہ ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں گے۔
چوتھی حالت: غبار بنا کر پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا،ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘‘(مرسلات:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیےجا ئیں گے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا‘‘(طہ:۱۰۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ سے پہاڑوں کے بارےمیں سوال کرتے ہیں ۔تم فرماؤ! انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔
پانچویں حالت:غبار بن کر اڑنے کے بعد پہاڑ تیزی سے چل رہے ہوں گے لیکن دیکھنے میں ٹھہرے ہوئے لگیں گے۔ارشاد فرمایاکہ ’’وَ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا‘‘(طور:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ تیزی سے چلیں گے۔
اور ارشاد فرمایا: