’’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا‘‘(کہف:۹۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو ہم سب کو جمع کر لائیں گے۔
وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن جائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔
{وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ: اور آسمان کھول دیا جائے گا۔ } یعنی قیامت کے دن آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ کثیر دروازوں والا ہوجائے گااوراس میں ایسے راستے بن جائیں گے جن سے فرشتے اُتریں گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۹، ۱۰/۳۰۰-۳۰۱، خازن، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴/۳۴۷)
اسی بات کو صراحت کے ساتھ ایک اور مقام پر بیان کیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ
’’وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىٕكَةُ تَنْزِیْلًا‘‘(فرقان:۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن آسمان بادلوں سمیتپھٹ جائے گا اور فرشتے پوری طرح اتارے جائیں گے۔
{وَ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ: اور پہاڑ چلائے جائیں گے۔} قرآنِ پاک میں مختلف مقامات پر قیامت کے دن پہاڑوں کی مختلف حالتیں بیان کی گئیں ہیں ۔
ٍٍ پہلی حالت:پہاڑوں کو جڑ سے اکھاڑ کر چورا چورا کر دیا جائے گا۔ارشادِباری تعالیٰ ہے: