Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
514 - 881
’’وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ‘‘(نمل:۸۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تو پہاڑوں  کو دیکھے گا انہیں  جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل ہے ہوں  گے۔
	چھٹی حالت: جب پہاڑ چلائے جائیں  گے تو وہ دیکھنے والے کی نظر میں  ایسے ہوجائیں  گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جسے دور سے دیکھا جائے تو یوں  لگتا ہے جیسے پانی ہے حالانکہ وہ پانی نہیں  ہوتی ۔( تفسیرکبیر، النّبأ، تحت الآیۃ: ۲۰، ۱۱/۱۳-۱۴، ملخصاً)
اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًاﭪ(۲۱) لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ(۲۲) لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ(۲۳) لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ(۲۴) اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ(۲۵) جَزَآءً وِّفَاقًاؕ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جہنم تاک میں  ہے۔ سرکشوں  کا ٹھکانا۔  اس میں  قَرنوں  رہیں  گے۔ اس میں  کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں  گے اور نہ کچھ پینے کو۔ مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں  کا جلتا پیپ۔جیسے کو تیسا بدلہ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جہنم تاک میں  ہے۔ سرکشوں  کے لئے ٹھکانہ ہے۔ اس میں  مدتوں  رہیں  گے۔ اس میں  کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ چکھیں  گے اور نہ کچھ پینے کو۔ مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں  کی پیپ۔  برابر بدلہ ہوگا ۔
{اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا: بیشک جہنم تاک میں  ہے۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جہنم کافروں  کی مُنتظِر اور ان کی طلَبگار ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ جہنم کے فرشتے کفار کے انتظار میں  ہیں ۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ جہنم ایک گزرگاہ ہے اور کوئی بھی اس پرسے گزرے بغیر جنت تک نہیں  پہنچ سکتا۔( خازن، النّبأ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۳۴۷، تفسیرکبیر، النّبأ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۱۱/۱۴، ملتقطاً)