Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
511 - 881
اوران کی جزا ضرور ملنی ہے اور اس میں  کوئی شک ہر گزنہیں ۔(خازن، النّبأ، تحت الآیۃ: ۶-۱۶، ۴/۳۴۶-۳۴۷، مدارک، النّبأ، تحت الآیۃ: ۶-۱۶، ص ۱۳۱۳-۱۳۱۴، روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۶-۱۶، ۱۰/۲۹۳-۲۹۹، ملتقطاً)
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔  جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں  کی فوجیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ جس دن صور میں  پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔
{اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًا: بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔} یعنی بیشک وہ دن جس میں  اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کافیصلہ فرمائے گا وہ ا س کے علم میں  ثواب اور عذاب کے لئے ایک مقرر کیا ہوا وقت ہے۔( جلالین مع صاوی، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶/۲۳۰۰)
{یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ: جس دن صور میں  پھونک ماری جائے گی۔} ارشاد فرمایا کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن صور میں  دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں  سے حساب کیلئے حساب کی جگہ کی طرف فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰/۲۹۹، ملخصاً)
	اس حالت کو بیان کرتے ہوئے ایک ا ور مقام پر ارشاد فرمایا:
’’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ‘‘(یس:۵۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور صور میں  پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ قبروں  سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلے جائیں  گے۔
	اور ارشاد فرمایا: