Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
498 - 881
پانی سے ماں  کے رحم میں  تمہاری تخلیق کے مراحل کا (حَتمی) اندازہ فرمایا اور وہ (حتمی) اندازہ فرمانے پر کیا ہی اچھا قادر ہے۔( خازن،المرسلات،تحت الآیۃ: ۲۰-۲۳، ۴/۳۴۴، روح البیان، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۳، ۱۰/۲۸۵، جلالین مع جمل، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۳، ۸/۲۰۵، ملتقطاً)
{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں  کے لئے خرابی ہے۔} یعنی قیامت کے دن ان لوگوں  کے لئے خرابی ہے جنہوں  نے اپنے پہلی بار پیدا کئے جانے کو دیکھنے کے باوجود دوسری بار پیدا کئے جانے کا انکار کر دیا۔( تفسیر سمرقندی، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۴، ۴/۴۳۶)
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ(۲۵) اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ(۲۶) وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ(۲۷) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا ۔ تمہارے زندوں  اور مُردوں  کی ۔اور ہم نے اس میں  اونچے اونچے لنگر ڈالے اور ہم نے تمہیں  خوب میٹھا پانی پلایا ۔اس دن جھٹلانے والوں  کی خرابی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ بنایا۔ زندوں  اور مردوں  کو۔اور ہم نے اس میں  اونچے اونچے مضبوط پہاڑبنادیئے اور ہم نے خوب میٹھے پانی سے تمہیں  سیراب کیا ۔اس دن جھٹلانے والوں  کے لئے خرابی ہے۔
{اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا: کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ بنایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے زمین کو تمام زندہ اور مُردہ لوگوں  کو جمع کرنے والی بنایا ہے کہ زندہ لوگ اس کی پُشت پر مکانات اور محلات میں  رہتے ہیں  اور مردہ لوگ اس کے اندر اپنی قبروں  میں  رہتے ہیں  اور ہم نے زمین میں  اونچے اونچے پہاڑ بنادیئے اور ہم نے زمین میں  چشمے اور پانی نکلنے کے مقامات پیدا کرکے خوب میٹھے پانی سے تمہیں  سیراب کیا اور یہ تمام باتیں مُردوں  کو زندہ کرنے سے زیادہ عجیب ہیں  لہٰذا جو ان چیزوں  پر قادر ہے وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( خازن،المرسلات،تحت الآیۃ:۲۵-۲۷،۴/۳۴۴، روح البیان،المرسلات،تحت الآیۃ:۲۵-۲۷،۱۰/۲۸۵-۲۸۶،ملتقطاً)