{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے۔} یعنی قیامت کے دن ان لوگوں کی خرابی ہے جنہوں نے ان چیزوں کا مُشاہدہ کرنے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت اور مُردوں کے زندہ ہونے کا انکار کیا۔( تفسیر سمرقندی، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴/۴۳۶)
اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ(۲۹) اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: چلو اس کی طرف جسے جھٹلاتے تھے ۔چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کی طرف چلوجسے تم جھٹلاتے تھے۔اس دھوئیں کے سائے کی طرف چلوجس کی تین شاخیں ہیں ۔
{اِنْطَلِقُوْۤا: چلو۔} یعنی قیامت کے دن کافروں سے کہا جائے گا کہ اس آگ اور اس عذاب کی طرف چلو جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔( مدارک، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۳۱۱، خازن، المرسلات، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۳۴۴، ملتقطاً)
{اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ: اس دھوئیں کے سائے کی طرف چلوجس کی تین شاخیں ہیں ۔} اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے جہنم کا دھواں مراد ہے،یہ دھواں اونچا ہو کر تین شاخوں میں تقسیم ہو جائے گا اورا س کی ایک شاخ کفّار کے سروں پر، ایک ان کے دائیں طرف اور ایک ان کے بائیں طرف ہو گی اور حساب سے فارغ ہونے تک انہیں اسی دھوئیں میں رہنے کا حکم ہوگا جب کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے بندے اس کے عرش کے سایہ میں ہوں گے۔( خازن، المرسلات، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴/۳۴۴)
کفار کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ(۴۱) فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ(۴۲) وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ‘‘(واقعہ:۴۱۔۴۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بائیں جانب والے کیا بائیںجانب والے ہیں ۔ شدید گرم ہوا اور کھولتے پانی میں ہوں گے۔ اور شدید سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔