اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو کیا ہم نے ان پر دنیا میں عذاب نازل کر کے انہیں ہلاک نہ فرمایا اور یاد رکھو کہ تم میں سے جو لوگ پہلی امتوں میں سے اپنے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں کے راستے پر چل کر میرے حبیب محمد مُصْطَفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلا رہے ہیں ،ہم انہیں بھی سابقہ لوگوں کی طرح ہلاک فرما دیں گے اور مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں کہ انہیں کفر کرنے اورا نبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک فرما دیتے ہیں ۔( خازن، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۸، ۴/۳۴۴، ابو سعود، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۸، ۵/۸۰۷، ملتقطاً)
{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔} یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں پر دنیا میں عذاب آئے گا تو اس دن ان کے لئے خرابی ہے۔( روح البیان، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۹، ۱۰/۲۸۴)
اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ(۲۰) فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ(۲۱) اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ(۲۲) فَقَدَرْنَا ﳓ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ(۲۳) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا ۔پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا ۔ایک معلوم اندازہ تک ۔پھر ہم نے اندازہ فرمایا تو ہم کیا ہی اچھے قادر ۔اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا؟پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ایک معلوم اندازے تک۔تو ہم قادر ہیں تو ہم کیا ہی اچھے قدرت رکھنے والے ہیں ۔اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے۔
{اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ: کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا؟} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا فرمایا اور وہ پانی نطفہ ہے، پھر اس پانی کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا اور وہ جگہ ماں کا رحم ہے اور اس پانی کوماں کے رحم میں ایک معلوم اندازے تک رکھا اور وہ معلوم اندازہ ولادت کا وقت ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ9مہینے ہے یا اس سے کم زیادہ تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس