مخلوق کو دعوت دی جاتی تھی، جیسے قیامت کے ہَولناک دن کا قائم ہونا،اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری ،اَعمال کا حساب ہونا،اعمال ناموں کا کھلنا اور میزان کا رکھا جانا وغیرہ،یہ تمام اُمور کس بڑے دن کے لئے مُؤخَّر کئے گئے تھے! اس دن کے لئے مؤخر کئے گئے تھے جس میں اللّٰہ تعالیٰ تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور تو کیا جانے کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے اور اس کی ہَولناکی اور شدّت کا کیا عالَم ہے۔( تفسیر کبیر، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴، ۱۰/۷۶۹-۷۷۰)
{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت کے اس ہَولناک دن میں ان لوگوں کے لئے خرابی ہے جو دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت،انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نُبوّت ،مرنے کے بعد زندہ کئے جانے ،قیامت قائم ہونے اور اعمال کا حساب لئے جانے کے مُنکر تھے۔ یہ آیت لوگوں کو ایمان لانے کی مزید ترغیب دینے اور ایمان نہ لانے پر عذاب سے مزید ڈرانے کے لئے اس سورت میں 10بار ذکر کی گئی ہے۔( خازن، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۳۴۴، صاوی، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۵، ۶/۲۲۹۳، ملتقطاً)
اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ(۱۶) ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ(۱۷) كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ(۱۸) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا ۔پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے ۔مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں ۔ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہ فرمایا۔پھربعد والوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے۔ مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں ۔اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔
{اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَ: کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہ فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں کفارِ مکہ کو ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب سابقہ اُمتوں جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ،قومِ عاد اور قومِ ثمود نے