Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
495 - 881
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ(۱۴) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب رسولوں  کا وقت آئے ۔کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے ۔ روزِ فیصلہ کے لیے ۔اور تو کیا جانے وہ روزِ فیصلہ کیسا ہے ۔جھٹلانے والوں  کی اُس دن خرابی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب رسولوں  کو ایک خاص وقت پر جمع کیا جائے گا ۔ کس بڑے دن کے لیے انہیں  ٹھہرایا گیا تھا۔ فیصلہ کے دن کے لیے۔اور تجھے کیا معلوم کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟اس دن جھٹلانے والوں  کیلئے خرابی ہے۔
{وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ: اور جب رسولوں  کو ایک خاص وقت پر جمع کیا جائے گا۔} اس وقت کے بارے میں  مفسرین نے مختلف اِحتمال بیان کئے ہیں ،
(1)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں  رسول اپنی امتوں  پر گواہی دینے کے لئے حاضر ہوں  گے۔
(2)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں  رسول ثواب پا کر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جمع ہوں گے ۔
(3)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں  رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھا جائے گا کہ (جب انہوں  نے تبلیغ کی تو ان کی امتوں  کی طرف سے) انہیں  کیا جواب دیا گیا اور امتوں  سے پوچھا جائے گا کہ انہوں  نے اپنے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو (ان کی دعوت کا) کیا جواب دیا۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’فَلَنَسْــٴَـلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْــٴَـلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘(اعراف:۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بیشک ہم ضرور ان لوگوں  سے سوال کریں  گے جن کی طرف (رسول) بھیجے گئے اور بیشک ہم ضرور رسولوں  سے سوال کریں  گے۔( تفسیر کبیر، المرسلات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰/۷۶۹)
{لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ: کس بڑے دن کے لیے انہیں  ٹھہرایا گیا تھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ جھٹلانے والوں  کو عذاب دینا، ایمان لانے والوں  کی تعظیم کرنا اور ان چیزوں  کو ظاہر کرنا جن پر ایمان لانے کی