Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
494 - 881
	دوسری علامت یہ ہے کہ اس دن آسمان اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے پھٹ جائیں  گے اور ان میں  سوراخ ہوجائیں  گے۔قیامت کے دن آسمان پھٹنے کے بعد کی حالتیں  بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پرارشاد فرمایا:
’’فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ‘‘(رحمٰن:۳۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول جیسا (سرخ) ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا۔
	اور ارشاد فرمایا:
’’وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌ‘‘(حاقہ:۱۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا۔
	تیسری علامت یہ ہے کہ اس دن پہاڑ غبار بناکے اُڑا دئیے جا ئیں  گے۔قیامت کے دن پہاڑوں  کی اور حالتیں  بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:	’’ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ‘‘(نمل:۸۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تو پہاڑوں  کو دیکھے گا انہیں  جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں  گے۔
	اور ارشاد فرمایا:  ’’وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا ‘‘(واقعہ:۵،۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پہاڑ خوب چُورا چُورا کردیئے جائیں گے ۔تووہ ہوا میں  بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں  گے۔
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ(۱۱) لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ(۱۲) لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ(۱۳)