Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
493 - 881
کسی کے لئے عذر بیان کرنے کی کوئی گنجائش نہ ر ہے یا انہیں  (اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے کے لئے ہے۔( صاوی، المرسلات، تحت الآیۃ: ۶، ۶/۲۲۹۳)
{اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ: بیشک جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے پانچ صفات کی قَسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ اے کفارِ مکہ ! مرنے کے بعد اُٹھائے جانے،عذاب دئیے جانے اور قیامت کے آنے کا جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے یہ بات ضرور واقع ہونے والی ہے اور اس کے ہونے میں  کچھ بھی شک نہیں  ۔( جلالین، المرسلات، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۸۵، مدارک، المرسلات، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۳۱۰، ملتقطاً)
فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ(۸) وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ(۹) وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب تارے مَحْو کردئیے جائیں ۔ اور جب آسمان میں  رخنے پڑیں ۔ اور جب پہاڑ غبار کرکے اُڑا دئیے جا ئیں  ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں  گے۔اور جب آسمان پھاڑ دیئے جائیں  گے۔اور جب پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیے جا ئیں  گے۔
{فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ: پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں  گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں  قیامت واقع ہونے کی علامات بیان کی جا رہی ہیں ۔
قیامت کی تین علامتیں :
	اس کی ایک علامت یہ ہے کہ اس دن ستاروں کو بے نور کر کے مٹا دیا جائے گا ۔قیامت کے دن ستاروں  کی ایک اور حالت بیان کرتے ہوئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ‘‘(تکویر:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب تارے جھڑ پڑیں  گے۔
	اور ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ‘‘(انفطار:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ستارے جھڑ پڑیں  گے۔