اور وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اِلتجائیں کرتے ہیں اور اس کا ذکر کرتے ہیں تو گویا کہ ان ہواؤں نے بندوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر اِلقا کر دیا۔
(2)… یہ پانچوں صفتیں فرشتوں کی ہیں ۔اس صورت میں ان پانچ آیات کا معنی یہ ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات دے کر لگاتار بھیجے جاتے ہیں ۔پھر ان فرشتوں کی قسم جو ہواؤں کی طرح تیز چلنے والے ہیں ۔پھر ان فرشتوں کی قسم!جو زمین پر اتر کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں ۔پھر ان فرشتوں کی قسم!جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز لاتے ہیں ۔پھر ان فرشتوں کی قسم !جو رسولوں کے پاس اللّٰہ تعالیٰ کی وحی لا کر انہیں اِلقا کرتے ہیں ۔
(3)… یہ پانچوں صفتیں قرآنِ پاک کی آیات کی ہیں ۔اس صورت میں ان پانچ آیات کا معنی یہ ہے کہ میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر لگاتار بھیجی جانے والی قرآن کی آیتوں کی قسم۔پھر قرآن کی ان آیتوں کی قسم جو وعید بیان کر کے دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتی ہیں ۔پھر قرآن کی ان آیات کی قسم !جو ایمان والوں کے دلوں میں ہدایت اور معرفت کے اَنوار پھیلا دیتی ہیں ۔پھر قرآن کی ان آیات کی قسم ! جو حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیتی ہیں ۔پھر قرآن کی ان آیات کی قسم جو حکمت والا ذکر ہیں اور وہ ایمان والوں کے دلوں میں نور وایمان ڈ ال دیتی ہیں ۔
(4)… پہلی تین صفتیں ہواؤں کی ہیں ،چوتھی صفت قرآنِ پاک کی آیات کی اورپانچویں صفت فرشتوں کی ہے۔
(5)… پہلی تین صفتیں ہواؤں کی ہیں جبکہ چوتھی اور پانچویں صفت فرشتوں کی ہے۔( جلالین مع جمل،المرسلات،تحت الآیۃ:۱-۵،۸/۲۰۰-۲۰۱،خازن،المرسلات،تحت الآیۃ:۱-۵،۴/۳۴۳، ملتقطاً)
عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ(۶) اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو ۔بے شک جس بات کا تم وعدہ دئیے جاتے ہو ضرور ہونی ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عذر کی گنجائش نہ چھوڑنے کیلئے یا ڈرانے کیلئے۔بیشک جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔
{عُذْرًا اَوْ نُذْرًا: عذر کی گنجائش نہ چھوڑنے کیلئے یا ڈرانے کیلئے۔} یعنی ذکر کا اِلقا کرنا ا س لئے ہے کہ مخلوق میں سے