بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ(۱) فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ(۲) وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ(۳) فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ(۴) فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: قَسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگاتار ۔پھر زور سے جھونکا دینے والیاں ۔پھر ابھار کر اٹھانے والیاں ۔ پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں ۔پھر ان کی قسم جو ذکر کا اِلقا کرتی ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قسم ان کی جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں ۔پھر ان کی جو نہایت تیز چلنے والی ہیں ۔اور خوب پھیلانے والیوں کی۔پھر خوب جدا کرنے والیوں کی ۔پھر ذکرکا القا کرنے والیوں کی ۔
{وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا: ان کی قسم جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی چار آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے پانچ صفات کی قسم ارشاد فرمائی اور جن چیزوں کی یہ صفات ہیں ان کاآیات میں ذکر نہیں کیا گیا، اسی لئے مفسرین نے ان چیزوں کی تفسیر میں بہت سی وجوہات ذکر کی ہیں ۔
(1)… یہ پانچوں صفتیں ہواؤں کی ہیں ۔اس صورت میں ان پانچ آیات کا معنی یہ ہے کہ ان ہواؤں کی قسم جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں ۔پھر ان ہواؤں کی قسم جو زور سے جھونکے دیتی ہیں ۔ پھر ان ہواؤں کی قسم جو بادلوں کوابھار کر اٹھاتی ہیں ۔ پھر ان ہواؤں کی قسم جو بادلوں کو جدا کرتی ہیں ۔پھر ان ہواؤں کی قسم جن کے زور دار جھونکوں سے درخت اکھڑ جاتے ہیں، شہر ویران ہو جاتے ہیں اور ان کے آثار مٹ جاتے ہیں تو اس سے بندوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے