Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
490 - 881
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : (میری والدہ) اُمِّ فضل نے مجھے ’’وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا‘‘ پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے میرے بیٹے!تم نے اپنی تلاوت کے ذریعے مجھے یہ سورت یاد کروا دی ۔یہ آخری سورت ہے جو میں  نے رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنی جسے آپ نمازِ مغرب میں  پڑھا کرتے۔( بخاری، کتاب الاذان، باب القراء ۃ فی المغرب، ۱/۲۷۰، الحدیث: ۷۶۳)
سورۂ مُرسَلات کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر کلام کیا گیا ہے اور آخرت کے اَحوال بیان کئے گئے ہیں  اور اس سورت میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ،
(1)…اس سورت کی ابتدا میں  پانچ صفات کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ قیامت ضرور واقع ہو گی اور ا س دن کافروں  کو جہنم کاعذاب لازمی طور پر ہو گا اور اس کے بعد قیامت قائم ہوتے وقت کی چند علامات بیان کی گئیں ۔
(2)…سابقہ امتوں  کی ہلاکت کے بارے میں  بیان فرمایا گیا اور انسان کی ابتدائی تخلیق کے مراحل بیان کر کے مُردوں  کو دوبارہ زندہ کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دلیل بیان فرمائی گئی۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  کا انکارکرنے والوں  کو اس کے عذاب سے ڈرایا گیا اور قیامت کے دن کافروں  کے عذاب کی کَیْفِیَّت بیان کی گئی نیز اس دن اہلِ ایمان کو ملنے والی نعمتوں  کو بیان کیا گیا۔
(4)…اس سورت کے آخر میں  کفار کے بعض اعمال پر ان کی سرزَنِش کی گئی اور فرمایاگیاکہ کافر اگر قرآنِ مجید پر ایمان نہ لائے تو پھر کس کتاب پر ایمان لائیں  گے۔
سورۂ دَہر کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ مرسلات کی اپنے سے ما قبل سورت’’دہر‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سور ۂ دہر میں  نیک مسلمانوں  سے جنتی نعمتوں  کا وعدہ کیا گیا اور کافروں  اور فاجروں  کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی گئی اور سورۂ مرسلات میں  قَسم کے ساتھ فرمایا گیا کہ نیک مسلمانوں  سے جنتی نعمتوں  کا جو وعدہ کیاگیا اور کافروں  کو جہنم کے عذاب کی جو وعید سنائی گئی وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورہ ٔ دہر میں  قیامت کے دن مسلمانوں  کے اَحوال تفصیل سے بیان کئے گئے اور اس سورت میں  کافروں  کے اَحوال تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ۔