Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
488 - 881
آیت ’’وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے ،
(1)… انسان پتھر کی طرح بے اختیار نہیں  بلکہ اسے اختیاراور ارادہ ملا ہے ۔
(2)… انسان اپنے ارادے میں  بالکل مُستقل اور اللّٰہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں  بلکہ اس کا ارادہ اللّٰہ تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت ہے، لہٰذا انسان مختارِ مُطْلَق نہیں ،اسی عقیدے پر ایمان کا مدار ہے۔
{یُدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ: وہ اپنی رحمت میں  جسے چاہتا ہے داخل فرماتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے اپنے فضل و احسان سے ایمان عطا فرما کر اپنی جنت میں  داخل فرماتا ہے اور کافروں  کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ ظالم اس لئے ہیں  کہ انہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بتوں  وغیرہ کی عبادت کر کے اپنی جانوں  پر ظلم کیا ہے۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴/۳۴۲، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۱۳۰۹، ملتقطاً)