پڑھیں اورباقی لمبی رات میں اللّٰہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پڑھتے رہیں ،یوں اس میں تَہَجُّد کی نماز بھی شامل ہو گئی ،اوربعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں ذکر سے مراد زبان سے ذکر کرنا ہے اور مقصود یہ ہے کہ دن رات کے تمام اَوقات میں دِل اور زبان سے اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہیں ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶، ۴/۳۴۲)
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک یہ لوگ پاؤں تلے کی عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑے بیٹھے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہ لوگ جلد جانے والی سے محبت کرتے ہیں اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں ۔
{اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ: بیشک یہ لوگ جلد جانے والی سے محبت کرتے ہیں ۔} رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مُخاطَب ہونے کے بعد اب اللّٰہ تعالیٰ کفّار کے حالات بیان فرما رہا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ان کفارِ مکہ کا حال یہ ہے کہ وہ جلد جانے والی دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اورا سے آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اپنے آگے قیامت کے اس دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں جس کی شدّتیں اور سختیاں کفار پر بھاری ہوں گی،یہ لوگ نہ اس دن پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس دن کے لئے عمل کرتے ہیں ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴/۳۴۲، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۱۳۰۹، ملتقطاً)
دنیا سے محبت کب بری اور کب اچھی ہے؟
اس سے معلوم ہوا کہ جب دین کو چھوڑ کر دنیا سے محبت کی جائے تو یہ بُری ہے اورکفار کا طریقہ ہے اور اگر دنیا کو دین کے لئے وسیلہ بنایاجائے تو اس سے محبت اچھی ہے۔ہمارے اَسلاف کا حال یہ تھا کہ وہ دنیا کا مال ملنے پر خوش ہونے کی بجائے غمزدہ ہو جایا کرتے تھے اور دین کی خاطر دنیا کا مال حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ،جیسا کہ ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روزے سے تھے، جب (افطار کے وقت) ان کے سامنے کھانا لایا گیا تو فرمایا’’ حضرت مُصْعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید کئے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے،انہیں ایک چادر کا کفن دیا گیا،