{نَبْتَلِیْهِ: تاکہ ہم اس کا امتحان لیں ۔} یعنی جب ہم نے انسان کو پیدا کیا تو ا س وقت یہ ارادہ کیا کہ ہم اسے مُکَلَّف کر کے اپنے اَحکامات اورمَمنوعات سے اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا تاکہ وہ دلائل کا مشاہدہ کر سکے اور آیات کو غور سے سن سکے ۔یاد رہے کہ یہاں انسان سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد مراد ہے۔( مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۰۵، روح البیان، الانسان، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۲۶۰، ملتقطاً)
{اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ: بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم نے ظاہری اور باطنی حَواس عطا کرنے کے بعد انسان کودلائل قائم کرکے، رسول بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ہدایت کا راستہ دکھا دیا، اب چاہے وہ ایمان قبول کر کے شکر گزار بنے یا کفر کر کے ناشکری کرنے والا بنے۔( تفسیر کبیر، الانسان، تحت الآیۃ: ۳، ۱۰/۷۴۱)
اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا(۴)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہیں ۔
{اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ: بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں کافروں اور ایمان والوں کا ذکر کیا اور اس آیت میں وہ چیزیں بیان کی جارہی ہیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آخرت میں کافروں کے لیے زنجیریں تیار کر رکھی ہیں جن سے باندھ کر انہیں دوزخ میں گھسیٹا جائے گا اور ان کے لئے طَوق تیار کر رکھے ہیں جوان کے گلوں میں ڈالے جائیں گے اور ان کے لئے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے جس میں انہیں جلایا جائے گا۔( مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۰۵، جلالین، الانسان، تحت الآیۃ: ۴، ص۴۸۳، ملتقطاً)
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ(۵) عَیْنًا