یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا(۶)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک نیک پیئیں گے اس جام میں سے جس کی مِلُونی کافور ہے ۔وہ کافور کیا؟ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللّٰہ کے نہایت خاص بندے پیئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک نیک لوگ اس جام سے پئیں گے جس میں کافورملاہوا ہوگا۔وہ کافور ایک چشمہ ہے جس سے اللّٰہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے،وہ اسے (جہاں چاہیں گے) بہا کر لے جائیں گے۔
{اِنَّ الْاَبْرَارَ: بیشک نیک لوگ۔} کفّار کا حال بیان کرنے کے بعد اب اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ایمان والوں کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ بیشک نیک لوگ جنت میں اس جام میں سے پئیں گے جس میں کافورملاہوا ہوگا، وہ کافور جنت میں ایک چشمہ ہے جس سے اللّٰہ تعالیٰ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اوروہ اپنے مکانات اور محلوں میں اسے آسانی کے ساتھ جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے ،نیز کافور ملا جام پینے سے انہیں کوئی نقصان نہ ہو گا کیونکہ جنتی لوگ جنت سے جو کچھ کھائیں پئیں گے اس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔( روح البیان، الانسان، تحت الآیۃ: ۵-۶، ۱۰/۲۶۲-۲۶۳، خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۵-۶، ۴/۳۳۸-۳۳۹، جمل، الانسان، تحت الآیۃ: ۵-۶، ۸/۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً)
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی بُرائی پھیلی ہوئی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہوگی۔
{یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ: وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں ۔} اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ثواب بیان فرمانے کے بعداب ان کے وہ اعمال ذکر فرمائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔