اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ‘‘(صف:۶)
فرمایا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللّٰہ کا رسول ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقام و مرتبہ سب سے بلند ہے۔
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۲) اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا(۳)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے آدمی کو پیداکیا ملی ہوئی منی سے کہ اسے جانچیں تو اُسے سنتا دیکھتا کردیا ۔بے شک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا تاکہ ہم اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ، (اب) یا شکرگزار ہے اور یا ناشکری کرنے والا ہے۔
{اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ: بیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا۔} آیت کے اس حصے میں اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی پیدائش سے متعلق اپنے قانون کو بیان فرمایا کہ اس نے آدمی کومردوعورت کی ملی ہوئی منی سے پیدا کیا جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت انسان کی پیدائش کے سلسلے میں اس ذریعے کی محتاج نہیں جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کر دیا،حضرت حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بغیر ماں کے پیدا کر دیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا۔