قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ‘‘(ال عمران:۸۱)
اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ (اللّٰہ نے) فرمایا: (اے انبیاء!) کیا تم نے (اس حکم کا) اقرار کرلیا اور اس (اقرار) پر میرا بھاری ذمہ لے لیا؟ سب نے عرض کی، ’’ہم نے اقرار کرلیا‘‘ (اللّٰہ نے) فرمایا، ’’ تو (اب) ایک دوسرے پر (بھی) گواہ بن جاؤ اور میں خود (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔
اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی پیدائش کے بعد عرش پر نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک لکھا دیکھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت کو پہچان گئے،جیساکہ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لغزش سرزَد ہوئی تو انہوں نے عرش کی طرف اپنا سر اُٹھایا اور عرض کی (اے اللّٰہ!) میں محمد کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما دے۔اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ محمد کون ہیں ؟ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تیرا نام برکت والا ہے،جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے سر اُٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رسولُ اللّٰہ‘‘ تو میں نے جان لیا کہ تیری بارگاہ میں اُس شخص سے زیادہ کسی کا مرتبہ اور مقام نہ ہو گا جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:اے آدم! یہ تیری اولاد میں سے سب سے آخری نبی ہیں اور ان کی امت تمہاری اولاد کی امتوں میں سے سب سے آخری امت ہے اور اگر وہ نہ ہوتے تو اے آدم! میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔ (معجم صغیر، باب المیم، من اسمہ: محمد، الجزء الثانی، ص۸۲)
اور دنیا میں تشریف آوری سے صدیوں پہلے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ کی آمد کی بشارت دے دی حتّٰی کہ آپ کا نام تک بتا دیا،جیسا کہ سورۂ صف میں ہے:
’’وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے