Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
469 - 881
ترجمۂکنزالایمان: بے شک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں  ا س کا نام بھی نہ تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ وہ کوئی ذکر کے قابل چیز نہ تھا۔
{هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ: بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا۔} اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ روح پھونکے جانے سے پہلے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر چالیس سال کا وقت ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھے کیونکہ وہ ایک مٹی کا خمیر تھے،نہ کہیں  ان کا ذکر تھا، نہ ان کو کوئی جانتا تھا اورنہ کسی کو ان کی پیدائش کی حکمتیں  معلوم تھیں ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں  انسان سے اس کی جنس یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد مراد ہے اوروقت سے اس کے حمل میں  رہنے کا زمانہ مراد ہے ، اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ بے شک ماں  کے پیٹ میں  آدمی پر ایک وقت وہ گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا کیونکہ وہ پہلے نطفے کی شکل میں  تھا،پھر جما ہوا خون بنا، پھر گوشت کا ٹکڑا بنااور اس کی جنس کسی کو معلوم نہ تھی یہاں  تک کہ وہ لوگوں  کے درمیان قابلِ ذکر چیز بن گیا۔( تفسیر کبیر ، الانسان ، تحت الآیۃ : ۱، ۱۰ / ۷۳۹ ، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۰۵، جلالین، الانسان، تحت الآیۃ: ۱، ص۴۸۳، خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۳۷-۳۳۸، ملتقطاً)
نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان:
	 یہاں  ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ان کا کہیں  ذکر نہ تھا جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات وجود میں  آنے سے پہلے ہی اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر جاری فرما دیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت کوبیان فرما دیا،جیسا کہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے: ’’وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب اللّٰہ نے نبیوں  سے وعدہ لیا کہ میں  تمہیں  کتاب اور حکمت عطا کروں گاپھر تمہارےپاس وہ عظمت والارسول تشریف لائے گا جو تمہاری کتابوں  کی تصدیق فرمانے والا ہو گاتو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا