سورۂ دَ ہر
سورۂ دَہر کا تعارف
مقامِ نزول:
امام مجاہد ،حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور جمہورمفسرین کے نزدیک سورۂ دَہر مدینہ مُنَوَّرہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سورت مکہ مُکَرَّمَہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سور ت کی کچھ آیتیں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں اور کچھ آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ ہل اتی، ۴/۳۳۷)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2رکوع، 31آیتیں ہیں ۔
’’دَہر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
لمبے زمانے کو عربی میں دہر کہتے ہیں ،نیزسورئہ دہر کاایک نام سورئہ انسان بھی ہے اور یہ دونوں نام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہیں ۔
سورۂ دَہر کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں آخرت کے اَحوال بیان کئے گئے ہیں اور اس سورت میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ،
(1)…اس سورت کے شروع میں انسان کی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں بیان کیا گیا اور یہ بتایاگیا کہ اس کا امتحان لینے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا بنایا ہے۔
(2)…انسانوں کی دو قِسمیں بیان کی گئیں کہ بعض انسان شکر گُزار ہیں اور بعض نا شکرے ہیں ،شکر کرنے والوں کی جزا جنت ہے اور نا شکری کرنے والوں کی سزا جہنم ہے۔