ہے اور پھر دنیامیں جیسے اعمال کئے ہوں گے ویسی جزا بھی ملے گی ،لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد سمجھ کر زندگی نہ گزاری جائے بلکہ زندگی جینے کا جو طریقہ اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دیا ہے اسی کے مطابق زندگی بسر کی جائے کہ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے اور جو شخص شریعت کے احکامات سے آزاد ہو کر جینا چاہتا ہے وہ بڑا بیوقوف اور بہت نادان ہے کہ وہ تھوڑے سے مزے کی خاطر ہمیشہ کے لئے خود کو ذلت و رُسوائی اور انتہائی دردناک عذاب میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں شریعت کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ(۳۷) ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ(۳۸) فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے۔پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا پھر ٹھیک بنایا۔تو اس سے دو جوڑے بنائے مرد اور عورت۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا وہ اس منی کا ایک قطرہ نہ تھا؟ جو گرایا جاتا ہے ۔پھر خون کا لوتھڑا ہوگیاتو پیدا فرمایا پھر ٹھیک بنایا۔ تو اس سے مرد اور عورت کی دو قِسمیں بنائیں ۔
{اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ: کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہ تھا؟} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اُس انسان کی یہ اَوقات کہا ں ہے کہ وہ تکَبُّر کرے اور اپنے پیدا کرنے والے کی نافرمانی کرے جو منی کا وہ گندہ قطرہ تھا جسے عورت کے رحم میں گرایا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن کے بعد منی سے خون کا لوتھڑا ہوگیا تواللّٰہ تعالیٰ نے اس سے انسان کو بنایا ،پھر اس کے اَعضا کوکامل کیا اور اس میں روح ڈالی تو اس منی سے اس نے مرد اور عورت کی صورت میں دو قسمیں بنائیں ۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳۷-۳۹، ۴/۳۳۷، مدارک، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳۷-۳۹، ص۱۳۰۴، ملتقطاً)