اس امت کا فرعون:
ابو جہل کے بارے میں حدیث ِپاک میں ہے، نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اور میری امت کا فرعون ابوجہل ہے۔( مسند شاشی، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ، ما روی ابوعبیدۃ بن عبد اللّٰہ عن ابیہ، ۲/۳۳۱، الحدیث: ۹۲۲)
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔
{اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے۔} ارشاد فرمایا : کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے یوں آزاد چھوڑ دیا جائے گا کہ نہ اسے کسی چیز کا حکم دیا جائے اور نہ اسے کسی چیز سے منع کیا جائے، نہ وہ مرنے کے بعد اُٹھایا جائے، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ اُسے آخرت میں جزا دی جائے ۔ ایسا نہیں ہو گا بلکہ اسے دنیا میں اَمر و نہی کا پابند کیا جائے گا،مرنے کے بعد اُٹھایا جائے گا،اس سے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور آخرت میں اسے اس کے اعمال کی جزا بھی دی جائے گی۔
ہمیں آزاد نہیں چھوڑا گیا:
اس سے معلوم ہو اکہ ہمیں بالکل آزاد نہیں چھوڑا گیا کہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں ،جیسے چاہیں اعمال کریں اور اپنی مرضی کے مطابق جس طرح اور جہاں چاہے رہیں بلکہ ہمیں دنیا کی زندگی میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے کچھ چیزوں کا پابند کیا گیاہے اور کچھ چیزوں سے منع کیاگیاہے اور زندگی گزارنے کے لئے ہمیں ایک دائرۂ کار عطا کیا گیا ہے جس میں رہ کر ہمیں اپنی زندگی کے اَیّام پورے کرنے ہیں اور ہمارے سامنے یہ بھی واضح کر دیاگیا ہے کہ ہمیں مرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا