الصّٰلِحِیْنَ(۱۰) وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَاؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‘‘(منافقون:۱۰،۱۱)
نے مجھے تھوڑی سی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالحین میں سے ہوجاتا۔ اور ہرگز اللّٰہ کسی جان کومہلت نہ دے گا جب اس کا مقررہ وقت آجائے اور اللّٰہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
اورحضرت بسر بن حجاش قرشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،ایک مرتبہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اپنا لعابِ دَہن اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: بندہ مجھے عاجز کرنا چاہتا ہے حالانکہ میں نے اُسے اِس جیسی چیزسے پیدا کیا،جب اس کا سانس گلے میں پہنچتا ہے تو کہتا ہے’’اب میں صدقہ کرتا ہوں ‘‘ حالانکہ وہ صدقہ کرنے کا وقت نہیں ۔( ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب النہی عن الامساک فی الحیاۃ۔۔۔ الخ، ۳/۳۰۷، الحدیث: ۲۷۰۷)
اورحضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند اور پختہ ارادے والا کون ہے؟نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ وہ شخص جو سب سے زیادہ موت کویاد کرتا ہے اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت ہے، یہی لوگ سب سے زیادہ عقلمند ہیں (کیونکہ ) وہ دنیا کا شرف اور آخرت کی سعادت پا گئے۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵/۳۱، الحدیث: ۶۴۸۸)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے پہلے اپنی قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔