Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
462 - 881
{وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ موت کی سختی اور کَرْب سے انسان کے پاؤں  ایک دوسرے سے لپٹ جائیں  گے ۔دوسرا معنی یہ ہے کہ دونوں  پاؤں کفن میں لپیٹ دئیے جائیں  گے ۔تیسرا معنی یہ ہے کہ ایک سختی کے ساتھ دوسری سختی جمع ہو جائے گی ،یعنی ایک تودنیا سے جدائی کی سختی ہو گی اور اس کے ساتھ موت کی سختی بھی ہوگی یا ایک تو موت کی سختی ہو گی اور اس کے ساتھ آخرت کی سختیاں  بھی مل جائیں  گی۔( تفسیرقرطبی،القیامۃ،تحت الآیۃ:۲۹،۱۰/۸۳،الجزء التاسع عشر،خازن،القیامۃ،تحت الآیۃ:۲۹،۴/۳۳۶-۳۳۷،ملتقطاً) 
اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمَسَاقُ(۳۰)ﮒ فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ(۳۱) وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ(۳۲) ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے ۔اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی ۔ہاں  جھٹلایا اور منہ پھیرا ۔پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن تیرے رب ہی کی طرف چلنا ہوگا ۔تو کافر نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔ہاں  جھٹلایا اور منہ پھیرا۔پھر اپنے گھر والوں  کی طرف اکڑتا ہوا چلاگیا۔
{اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمَسَاقُ: اس دن تیرے رب ہی کی طرف چلنا ہوگا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بندوں  کا رجوع اللّٰہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے اورقیامت کے دن بندوں  کو آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی چلنا ہوگا اور وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴/۳۳۷)
{فَلَا صَدَّقَ: تو کافر نے نہ تو تصدیق کی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ ابو جہل نے نہ تو قرآن کی تصدیق کی اور نہ ہی اللّٰہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھی ،ہاں  ا س نے قرآن کوجھٹلایا اور ایمان لانے سے منہ پھیرا، پھر اپنے گھر کو اَکڑتا ہوا مُتکَبِّرانہ شان سے چلاگیا۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۳، ۴/۳۳۷)