Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
460 - 881
ترجمۂکنزالایمان: ہاں  ہاں  جب جان گلے کو پہنچ جائے گی۔اورلوگ کہیں  گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے۔ اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے ۔
 ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں  ہاں ، جب جان گلے کو پہنچ جائے گی۔اور کہا جارہا ہوگا کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے؟ اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔
{كَلَّاۤ: ہاں  ہاں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! جب تم نے آخرت میں  خوش نصیبوں  کی سَعادت اور بد بختوں  کی شَقاوت کے بارے میں  جان لیا تو تمہیں  معلوم ہو گیا ہو گا کہ آخرت کے مقابلے میں  دنیا کی کوئی حیثیت ہی نہیں  لہٰذا تم دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے باز آ جاؤ اور اپنے سامنے موجود موت کو پیش ِنظر رکھو جو کہ دنیا سے نکال کر آخرت کی طرف لے جانے والی ہے اور یاد رکھو کہ جب موت کے وقت کسی کی جان گلے کو پہنچ جائے گی اور ا س کے پاس موجود لوگ کہیں  گے کہ کوئی طبیب یا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے جو اس کا علاج کرے یا دَم غیرہ کرے تاکہ اسے شِفا حاصل ہو جائے لیکن وہ (اپنی کوششوں  کے باوجود) اس پر آنے والے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کو ٹال نہیں  سکیں  گے اور اس وقت مرنے والے کو یقین ہو جائے گا کہ اب یہ مال ،اولاد اور اہل ِخانہ سے جدائی اوراس کی محبوب دنیا سے نکل جانے کی گھڑی ہے۔( تفسیر طبری، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۸، ۱۲/۳۴۵-۳۴۶، ملتقطاً)
نیک اعمال کرنے کا وقت موت آنے سے پہلے تک ہےـ:
	اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کو بہتر بنانے کے لئے جس نے جو عمل کرنا ہے وہ موت آنے سے پہلے پہلے ہی کر سکتا ہے اور جب موت کا وقت آ جائے گا تو اس وقت عمل کرنے کا وقت ختم ہوجائے گا۔اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہیں  جو رزق دیا اس سے اس وقت سے پہلے پہلے کچھ (ہماری راہ میں ) خرچ کرلو کہ تم میں  کسی کو موت آئے تو کہنے لگے، اے میرے رب! تو