Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
459 - 881
{اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ: اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں  گے۔} اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں  مومنین کو اللّٰہ تعالیٰ کا دیدارہو گا، یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے اور اس پر قرآن و حدیث اور اِجماع کے کثیر دلائل قائم ہیں  اور یہ دیدار کسی کَیْفِیَّت اور جِہَت کے بغیر ہوگا۔
	نوٹ:اس عقیدے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورۂ اَنعام کی آیت نمبر 103کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍۭ بَاسِرَةٌۙ(۲۴) تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں  گے ۔سمجھتے ہوں  گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کچھ چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں  گے۔سمجھتے ہوں  گے کہ ان کے ساتھ پیٹھ توڑ دینے والا سلوک کیا جائے گا ۔
{وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍۭ بَاسِرَةٌ: اور کچھ چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں  گے۔} اس آیت سے کفار اور منافقین کاحال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن کچھ چہرے ایسے ہوں  گے کہ جب وہ اپنی بدبختی کے آثار دیکھیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں  گے تو ان کا رنگ سیاہ ہو جائے گا اور ان سے خوشی کے آثار ختم ہو جائیں  گے۔( تفسیرکبیر، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۴، ۱۰/۷۳۳، ملخصاً)
{تَظُنُّ: سمجھتے ہوں  گے۔} یعنی جب وہ یہ اَحوال دیکھیں  گے تو انہیں  یقین ہو جائے گا کہ اب وہ عذاب کی شدت اور ہَولناک مَصائب میں  گرفتار کئے جائیں  گے۔ (خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴/۳۳۶)
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ(۲۶) وَ قِیْلَ مَنْٚ-رَاقٍۙ(۲۷) وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ(۲۸)