{كَلَّا: خبردار!} اس آیت ا ور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کافروں سے فرمایا کہ اصل بات وہ نہیں جو تم گمان کرتے ہو بلکہ تم ایسے لوگ ہو جوجلد جانے والی دنیا اور اس کی زندگی کوپسند کرتے ہو اور تم پر دُنْیَوی خواہشات کی محبت غالب آ چکی ہے حتّٰی کہ تم آخرت کے گھر اور اس کی نعمتوں کو چھوڑرہے ہو، یہی وجہ ہے کہ تم انہیں پانے کے لئے عمل نہیں کرتے بلکہ ان کا انکار کرتے ہو۔( البحر المحیط، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ۸/۳۸۰، تفسیر قرطبی، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ۱۰/۷۹، الجزء التاسع عشر، ملتقطاً)
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے ۔اپنے رب کودیکھتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔
{وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌ: کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں مخلص مومنین کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس دن کچھ چہرے ایسے ہوں گے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت و کرم پر مَسرور ہوں گے اور ان سے اَنوار پھوٹ رہے ہوں گے اور انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت سے سرفراز کیا جائے گا۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۴/۳۳۵، روح البیان،القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳،۱۰ /۲۵۰)
جنتیوں میں سب سے زیادہ عزت والا شخص:
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ادنیٰ درجے کا جنتی اپنے باغات،بیویوں ،خادموں اور تختوں کو ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا،اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہو گا جو صبح و شام اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے مُشَرَّف ہوگا۔ اس کے بعد نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پڑھا: ’’وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‘‘ ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ القیامۃ، ۵/۲۱۸، الحدیث: ۳۳۴۱)