ارشاد فرمایا: ’’وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‘‘(انفال:۱۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب!جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللّٰہ نے پھینکی تھی۔
{ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ: پھر بیشک اسے بیان فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قرآن کے معانی اور اَحکام میں سے جس چیز کو سمجھنا آ پ کو مشکل لگے تو اسے بیان کرنا اور اس کی باریکیوں کو ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔( روح البیان،القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱۹،۱۰ /۲۴۸)
آیت ’’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے3 مسئلے معلوم ہوئے:
(1)… قرآن کا بیان قرآن نازل ہونے سے کچھ دیر بعد بھی ہوسکتا ہے۔
(2)… حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام صرف قرآن کے الفاظ لاتے تھے اور قرآن کے معانی ، اس کے اَحکام اور اَسرار بلاواسطہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا ہوتے تھے۔
(3) …حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بلا واسطہ اللّٰہ تعالیٰ سے سیکھنے والے ہیں لہٰذا دنیا میں کوئی آپ جیسا عالِم نہیں ہوسکتا کیونکہ سب لوگ مخلوق سے علم حاصل کرتے ہیں جبکہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خالق سے علم حاصل کیا۔
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ(۲۰) وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: کوئی نہیں بلکہ اے کافروتم پاؤں تلے کی دوست رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑے بیٹھے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: خبردار! بلکہ (اے کافرو!) تم جلد جانے والی کوپسند کرتے ہو۔اور آخرت کو چھوڑتے ہو۔