(1)… درحقیقت قرآن کو جمع فرمانے والا اللّٰہ تعالیٰ ہے کہ اس نے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سینۂ مبارک میں قرآنِ کریم کو ترتیب وار جمع فرمایا۔
(2)… حضورپُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حافظ ، قاری ، عالِم اور صاحبِ اَسرار ہیں کسی مخلوق کے شاگرد نہیں ۔
(3)… حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان پیغام رَساں ہیں نہ کہ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے استاد ہیں ۔
{فَاِذَا قَرَاْنٰهُ: تو جب ہم اسے پڑھ لیں ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کا حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے پڑھنے کو اپنی طرف منسوب کرنا ان کی عظمت و شرافت کی دلیل ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کئی کام بھی اپنی طرف منسوب کئے ہیں جیسا کہ بیعتِ عقبہ میں نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے 70 اَنصاری صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خریدے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ‘‘(توبہ:۱۱۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے۔
اور بیعتِ رضوان کے موقع پر حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بیعت لی اور ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ‘‘(فتح:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔
اورجنگ ِبدر میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفّار کی طرف کنکریاں پھینکی اور اللّٰہ تعالیٰ نے