تکلیف ہوتی جو کہ دوسروں کو بھی معلوم ہو جاتی تھی (اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یہ مشقت گوارا نہ فرمائی اور) سورہ ٔقیامہ میں یہ آیات نازل فرمائیں : ’’لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ(۱۶) اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ(۱۷) فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗۚ(۱۸) ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ‘‘ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ،بیشک اس کوآپ کے سینۂ پاک میں محفوظ کر دینا اور آپ کی زبان پراس کا پڑھنا جاری کردیناہمارے ذمہ ہے، لہٰذا جب ہماری جانب سے پڑھا جا چکے تواس وقت اس پڑھے ہوئے کی اِتباع کرواور جب ہماری طرف سے کچھ نازل ہو تو اسے غور سے سنیں پھر اس کو بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے آپ کی زبان سے بیان کرا دیں ۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’اس کے بعد جب حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آتے تو نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنا سر ِانور جھکا لیتے اور جب وہ (وحی نازل کر کے) چلے جاتے تو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی طرح پڑھتے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا۔( بخاری، کتاب تفسیر القرآن، سورۃ المدثر، باب قولہ: فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ، ۳/۳۶۹، الحدیث: ۴۹۲۹)
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ(۱۷) فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗۚ(۱۸) ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمّہ ہے۔ تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اُس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو ۔پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمّہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔تو جب ہم اسے پڑھ لیں تو اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔پھر بیشک اسے بیان فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔
{اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ: بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔} اس آیت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں،