Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
454 - 881
ترجمۂکنزالایمان: اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا ۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے۔اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں  سب لا ڈالے جب بھی نہ سنا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا ۔اگرچہ اپنی سب معذرتیں  لا ڈالے ۔
{یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ: اس دن آدمی کو بتادیا جائے گا۔} اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن آدمی کو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پیش ہو کر مُحاسبہ کئے جانے اور اعمال کا وزن کئے جانے کے وقت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے سب اگلے پچھلے اور اچھے برے عمل بتا دئیے جائیں  گے بلکہ آدمی تو خبر دئیے جانے کا      محتاج ہی نہ ہوگا کیونکہ وہ خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا کہ اس کے نفس نے کون کون سے برے عمل کئے اور اس نے اپنے اَعضا سے کون کون سے برے کام سر انجام دئیے اور ممکن ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان برے اعمال پر کوئی معذرت پیش کرے لیکن اگرچہ وہ اپنی سب معذرتیں  پیش کرڈالے جب بھی اسے نجات نہیں  ملے گی۔( روح البیان،القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۵،۱۰ /۲۴۶-۲۴۷)
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم یاد کرنے کی جلدی میں  قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم یاد کرنے کی جلدی میں  قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔
{لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ: تم یاد کرنے کی جلدی میں  قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔} شانِ نزول:حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جب حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس وحی لے کر آتے تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے (پڑھنے کے) ساتھ اپنی زبان اور ہونٹوں  کو حرکت دیاکرتے تھے اور اس سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو