Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
453 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن آدمی کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں  ہے؟ ہرگز نہیں ،کوئی پناہ نہیں  ہوگی۔
{یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ: اس دن آدمی کہے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والا انسان جب قیامت کے ان اَحوال کو دیکھے گاتو کہے گا:میں  اس نازل ہونے والی ہَولناکی سے بچنے کے لئے کس طرف بھاگ کر جاؤں ؟اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہاں  بھاگ جانا اسے کوئی فائدہ نہیں  دے گا کیونکہ اس طرح اسے نجات نہیں  مل جائے گی اور اس دن نہ ہی پہاڑ یا قلعہ وغیرہ ایسی کوئی پناہ ہوگی جہاں  جا کر وہ اللّٰہ تعالیٰ کے آجانے والے حکم سے بچ سکے۔( تفسیر طبری، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱، ۱۲/۳۳۳، ملخصاً)
اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّؕ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔
{اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّ: اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔} یعنی جس دن یہ کام ہوں  گے جن کا اوپر ذکر ہوا اس دن تمام مخلوق اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہوگی اور ان کے اعمال کا حساب کیا جائے گا اور انہیں  جزا دی جائے گی،اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہے گااسے اپنی رحمت سے جنت میں  داخل کرے گا اورجسے چاہے گااسے اپنے عدل سے جہنم میں  ڈالے گا۔( جلالین مع جمل، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۱۷۵، خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۳۳۴، ملتقطاً)
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ(۱۴) وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ(۱۵)