Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
442 - 881
بیہودہ باتیں  سوچتے تھے۔ اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔یہاں  تک کہ ہمیں  موت آئی۔
{فِیْ جَنّٰتٍﰈ یَتَسَآءَلُوْنَ: باغوں  میں  ہوں  گے۔ وہ پوچھ رہے ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 7آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان والے آخرت میں  باغوں  میں  ہوں  گے اور جب جہنم میں  داخل ہونے والے مومن اس سے نکل جائیں  گے تو جنتی کافروں  سے ان کا حال پوچھیں  گے کہ تمہیں  کون سی چیزدوزخ میں  لے گئی؟وہ انہیں  جواب دیتے ہوئے کہیں  گے:ہم دنیا میں نماز پڑھنے والوں  میں  سے نہیں  تھے کیونکہ ہم نماز کے فرض ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور مسلمانوں  کی طرح مسکین پر صدقہ نہیں  کرتے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں  بیہودہ فکر کرنے والوں  کے ساتھ بیٹھ کر بیہودہ باتیں  سوچتے تھے اور ان کے بارے میں جھوٹی باتیں  بولتے تھے اور ہم انصاف کے اس دن کو جھٹلاتے رہے جس میں  اعمال کا حساب ہوگا اور ان کی جزا دی جائے گی ،یہاں  تک کہ ہمیں  موت آئی اور ہم ان مذموم افعال کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے جہنم میں  داخل ہو گئے۔( مدارک،المدثر،تحت الآیۃ:۴۰-۴۷،ص۱۳۰۰-۱۳۰۱، جلالین مع صاوی، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۷، ۶/۲۲۷۳ -۲۲۷۴، روح البیان، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۷، ۱۰/۲۴۰، ملتقطاً)
فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو انھیں  سفارشیوں  کی سفارش کام نہ دے گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہیں  سفارشیوں  کی سفارش کام نہ دے گی۔
{فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَ: تو انہیں  سفارشیوں  کی سفارش کام نہ دے گی۔} یعنی انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام، فرشتے،شُہداء اورصالحین جنہیں  اللّٰہ تعالیٰ نے شفاعت کرنے کا اِذن دیا ہے وہ ایمانداروں کی شفاعت کریں  گے اور کافروں کی شفاعت نہیں  کریں  گے، لہٰذاجو لوگ ایمان نہیں  رکھتے انہیں  قیامت کے دن شفاعت مُیَسَّر بھی نہ ہو گی۔( مدارک، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۳۰۱، جلالین مع صاوی، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۸، ۶/۲۲۷۴، ملتقطاً)