Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
441 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں  گروی رکھی ہے۔مگر دائیں  طرف والے۔
{كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌ: ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں  گروی رکھی ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنوں  اور انسانوں  میں  سے ہر جان اپنے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایسے قید ہے جیسے وہ چیز جسے گروی رکھا ہوا ہے، البتہ کافر دائمی طور پر اور ایمان والے عارضی طور پر قید ہیں  کیونکہ کافر جہنم کے عذاب سے کبھی نجات نہ پائیں  گے جبکہ بعض ایمان والے شروع سے ہی جہنم سے نجات پاکر جنت میں  چلے جائیں  گے اوربعض اپنے گناہوں  کی سزا پانے کے بعد جنت میں  داخل ہوں  گے، ا س طر ح ایمان والے سب کے سب نجات پا جائیں  گے۔( صاوی، المدثر، تحت الآیۃ: ۳۸، ۶/۲۲۷۳، ملخصاً)
فِیْ جَنّٰتٍﰈ یَتَسَآءَلُوْنَۙ(۴۰) عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ(۴۱) مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ(۴۵) وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ(۴۶) حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: باغوں  میں  پوچھتے ہیں ۔مجرموں  سے ۔تمہیں  کیا بات دوزخ میں  لے گئی ۔وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے ۔اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے۔اور بیہودہ فکر والوں  کے ساتھ بیہودہ فکریں  کرتے تھے ۔اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔یہاں  تک کہ ہمیں  موت آئی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: باغوں  میں  ہوں  گے ۔وہ پوچھ رہے ہوں  گے ۔مجرموں  سے۔کون سی چیزتمہیں  دوزخ میں  لے گئی؟وہ کہیں  گے:ہم نمازیوں  میں  سے نہیں  تھے ۔اور مسکین کو کھانا نہیں  کھلاتے تھے۔اور بیہودہ فکر والوں  کے ساتھ