Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
443 - 881
گناہگار مسلمانوں  کی شفاعت ہو گی :
	اس آیت سے ثابت ہوا کہ قیامت کے دن گناہگار مسلمانوں  کے لئے شفاعت ہو گی اور انہیں  شفاعت کام  بھی آئے گی اور یہ بات کثیر اَحادیث سے بھی ثابت ہے،جیسا کہ حضرت عبداللّٰہ بن شقیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں  اِیلیا کے مقام پر ایک قافلے کے ساتھ تھا،ان میں  سے ایک شخص نے کہا:میں نے رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کے ذریعے بنو تمیم کی آبادی کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہو گا؟ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! میرے علاوہ کوئی اور ہو گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۱۱-باب منہ، ۴/۱۹۹، الحدیث: ۲۴۴۶)
	اورحضرت حارث بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے،نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے بعض لوگ ایسے ہوں  گے جن کی شفاعت کے ذریعے قبیلۂ مُضَر کے لوگوں  سے زیادہ لوگ بخشے جائیں  گے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب صفۃ النار، ۴/۵۳۱، الحدیث: ۴۳۲۳)
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ(۴۹) كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ(۵۰) فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو انہیں  کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں ۔گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں ۔کہ شیر سے بھاگے ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہیں  کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں ۔جو شیر سے بھاگے ہوں ۔
{فَمَا لَهُمْ: تو انہیں  کیا ہوا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ مُشرکین نادانی اور بے وقوفی