کی طرف سے ہے جس میں گناہ ،حد سے بڑھنا اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی ہو اور شیطان اپنے دوستوں کو اس پر اُبھارتا ہے تاکہ وہ ایمان والوں کوغمگین کردے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا نقصان میں نہیں رہتا۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۴۰، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۱۸، ملتقطاً)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللّٰہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو ،اللّٰہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللّٰہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا: اے ایمان والو!۔} شانِ نزول: نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوہِ بدر میں حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض